دفتر خارجہ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے امریکی دباؤ کی رپورٹ مسترد کردی

65

دفتر خارجہ نے ‘من گھڑت’ رپورٹ مسترد کردی جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو متعدد عرب ممالک کے تل ابیب کے ساتھ امن معاہدوں کے تناظر میں امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح طور پر پاکستان کے مؤقف کو واضح کیا کہ جب تک فلسطین کا ایسا منصفانہ حل نہ نکلے کہ جو فلسطین کے عوام کو مطمئن کرسکے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔

خیال رہے کہ ڈان اخبار نے ایک اسٹوری شائع کی تھی جس کے مطابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ ‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ غیر معمولی تھا’۔

یہ اسٹوری مشرق وسطیٰ سے متعلق معاملات پر نظر رکھنے والی خبررساں ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی (ایم ای ای) میں شائع ہوئی تھی۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ‘وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس سلسلے میں پاکستان کی پالیسی قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ہے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘وزیراعظم کے ریمارکس اس معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی واضح طور پر دوبارہ تصدیق ہے، جس میں بے بنیاد قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے’۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘ایک جامع، پائیدار اور دیرپا امن کے لیے پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق اور القدس شریف کے فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر اقوامِ متحدہ اور او آئی سی قراردادوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کے تحت 2 ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا’۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جب تک فلسطین کے عوام کسی معاہدے پر اطمینان کا اظہار نہیں کریں گے ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔

یو اے ای اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ کئی ممالک سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں اور ہم ان کو اپ سیٹ نہیں کرنا چاہتے۔

اس سے قبل اگست میں نجی چینل ‘دنیا نیوز’ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ‘قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے’۔

عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑ دینا ہوگا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ فلسطین کے بارے میں ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے، میرا ضمیر کبھی بھی فلسطینیوں کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تعلقات کو معمول پر لائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل

کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کریں گے۔

بعدازاں قریبی ملک بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جس کے بعد سوڈان 2 ماہ کے عرصے میں تیسرا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.