اس غذا کا شوق جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے

تلے ہوئے کھانے، پراسیس گوشت اور میٹھے مشروبات پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال اچانک حرکت قلب تھم جانے سے موت کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں 45 سال یا اس سے زائد عمر کے 21 ہزار افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا۔

ان افراد کی غذائی عادات کو 18 سال سے زیادہ دیکھا گیا اور ان کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

مثال کے طور پر سبزیاں پسند کرنے والے، میٹھے کے شوقین، مکس غذائوں کو خوراک کو حصہ بنانے والے وغیرہ۔

ان میں سے ایک گروپ ایسا تھا جن کی غذا کا زیادہ تر حصہ چکنائی، تلے ہوئے کھانوں، انڈوں، پراسیس گوشت اور میٹھے مشروبات پر مشتمل تھا اور اسے سدرن کا نام دیا گیا تھا، کیونکہ امریکا کے جنوبی علاقوں میں اس طرح کا غذائی رجحان عام ہے۔

تمام تر عناصر کو مدنظررکھتے ہوئے دریافت کیا گیا کہ سدرن طرز کی غذا میں اچانک حرکت قلب تھم جانے یا سڈن کارڈک اریسٹ سے موت کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پھلوں، سبزیوں، گریوں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا سے کارڈک اریسٹ سے موت کا خطرہ 26 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل امریکا کے وی اے بوسٹن ہیلتھ کییئر سسٹم ہاسپٹل کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بہت زیادہ تلی ہوئی غذاﺅں کو کھانا خون کی شریانوں کے مسائل بڑھا کر امراض قلب کا شکار بنا سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ تلی ہوئی غذائیں جیسے فرنچ فرائیز یا دیگر کو کھانا دل کی شریانوں کے مرض سی اے ڈی کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد رضاکاروں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ ڈیپ فرائی غذائیں دل کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق جب تیل کو گرم کیا گیا جاتا ہے تو اس میں ایسا کیمیکل خارج ہوتا ہے جو بلڈ پریشر بڑھانے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے۔

عام طور پر تلی ہوئی غذاﺅں میں چکنائی اور کیلوریز بہت زیادہ ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں شریانیں بلاک ہونے لگتی ہیں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سی اے ڈی امراض قلب میں سب سے عام بیماری ہے اور اس کے دوران دل کی جانب جانے والی سب سے اہم شریان کو نقصان پہنچتا ہے۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ ڈیپ فرائی غذاﺅں کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ ٹو، ہارٹ فیلیئر اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے