رنگ روڈ اسکینڈل، سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود گرفتار

راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو گرفتار کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن حکام نے سابق کمشنر محمد محمود کو گرفتار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ  رنگ روڈ اسکینڈل میں سابق کمشنر کا کردار سامنے آیا اور  اینٹی کرپشن حکام نے شواہد ملنے پر ہی سابق کمشنر راولپنڈی کو گرفتار کیا۔

ذرائع کے مطابق رنگ روڈ اسکینڈل  کے ایک اور کردار لینڈ ایکوزیشن کمشنروسیم تابش کو بھی گرفتارکرلیا گیا۔

رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ اس حوالے سے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس کا کہنا ہے کہ الائمنٹ کی منظوری وزیر اعلیٰ پنجاب سےنہیں لی گئی، سی ڈی اے اور این ایچ اے سے این او سی نہیں لیے گئے۔

ان کا کہنا تھاکہ نئے انٹرچینجز ایڈ کیے گئے، روڈ کی لمبائی 22 سے 68 کلومیٹر ہوگئی اور آخری دوکلومیٹراسلام آبادمیں آتا ہے۔

خیال رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ کی آڑ میں 131 ارب روپے کی زمین کی خریدو فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق رنگ روڈ کی نئی الائنمنٹ سے 50 سے زائد طاقتور لوگوں اور رئیل اسٹیٹ ڈیلرز نے ممکنہ فائدہ اٹھایا اور رنگ روڈ سے جڑے کئی کاروباری افراد نے تقریباً 64000 کنال سے زائد زمین حاصل کی۔

راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل انکوائری مکمل کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ رنگ روڈ کے اصل نقشے کو تبدیل کر دیا گیا اور اس میں مزید نئے راستے شامل کردیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان نئے راستوں کا انتخاب ان چند اہم شخصیات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا، جن کی زمینیں اس راستے پر آتی تھیں جب کہ نئے راستے شامل کرنے پرلاگت میں مزید 25 ارب روپے اضافہ ہو رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے معاملہ علم میں آنے پر رنگ روڈ کے منصوبے کو رکوادیا تھا اور بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر انکوائری عمل میں لائی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ رنگ روڈ کا معاملہ سامنے آنے پر کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو پہلے ہی تبدیل کردیا گیا تھا جبکہ وزیر اعظم نے تبدیل کیے گئے کمشنر سے بھی خود معلومات لی تھیں۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے