لکھنے کا عمل بچوں میں سیکھنے اور سبق یاد کرنے میں مددگار ہوتا ہے

نیویارک: آج کے اس کمپیوٹرزدہ عہد میں لکھنے کا عمل بہت کمزور ہوگیا ہے، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ قلم اور کاغذ کی اہمیت اب بھی باقی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ بچوں کو مسلسل لکھنے اور یاد کرنے کے بعد سبق کو کاغذ پر منتقل کرنے کی عادت ڈالی جائے تو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

ہر ایک نے ویڈیو دیکھ کر حروف سیکھے اور پھر آوازیں سن کر انہیں لکھا۔ پھر ہر رضاکار کو حرف سے واقف کرانے کے بعد تینوں گروہوں کو صرف دیکھنے اور سننے کے بعد الفاظ یاد کرنے اور دوہرانے کو کہا گیا۔

ویڈیو والے گروپ کو اسکرین پر کسی جھماکے کی صورت میں حروف دکھائے گئے اور پوچھا گیا کہ کیا یہ وہی حرف یا حروف ہیں جو اس سے قبل انہوں نے دیکھے ہیں۔ ٹائپ کرنے والوں کو مطلوبہ حرف کی بورڈ پر تلاش کرنا تھا جبکہ لکھنے والے افراد کو قلم سے کاغذ پر وہ حرف لکھنا تھا۔

اس طرح مسلسل چھ سیشن کرائے گئے۔ آخر میں ہر گروپ کے لوگ دیکھے گئے الفاظ پہچاننے لگے لیکن ہاتھ سے تحریرکرنے والے گروہ ان سب پر بازی لے گئے۔ نہ صرف انہوں نے حروف کو جلدی پہچانا بلکہ ان میں یاد کرنے کا عمل بھی تیز رہا۔ اس کے بعد مزید ٹیسٹ کئے گئے تب بھی ہاتھوں سے لکھنے والے افراد اجنبی حروف سمجھنے اور یادکرنے میں سب سے آگے رہے۔

اس طرح ثابت ہوا کہ لکھ کر سمجھنے اور یاد کرنے کا عمل سب سے مؤثر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہاتھوں سے لکھی تحریر دماغی نیورون کو متحرک کرتی ہے اور ساتھ ہی بصری اور لفظی ڈیٹا بھی حاصل ہوکر سیکھنے کے عمل کو کئی طرح سے مضبوط کرتا ہے۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے