رنگ روڈ کے نئے انکشافات

وزیراعظم کو اپنے کانوں اور آنکھوں پریقین نہیں آیا‘ وہ رکے اور زور دے کر کہا ’’آپ دوبارہ بتایے گا‘‘ اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈی جی نے اپنی بات دہرا دی‘ وزیراعظم نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگا لی اور لمبے لمبے سانس لینے لگے‘ کمرے میں ’’پن ڈراپ‘‘خاموشی چھا گئی‘تمام لوگ وزیراعظم کے چہرے کو دیکھنے لگا۔

یہ 13 جولائی کا دن تھا‘ اینٹی کرپشن کی تحقیقاتی ٹیم نے رنگ روڈ راولپنڈی کی رپورٹ تیار کر لی تھی‘ ڈی جی رپورٹ لے کر وزیراعظم کے پاس آ گیا‘ رپورٹ کا پہلا حصہ کمشنر راولپنڈی اور رنگ روڈ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کیپٹن محمود اور لینڈ ریکوزیشن کلکٹر وسیم تابش کے بارے میں تھا‘ وزیراعظم کو بتایاگیا‘ کمشنر محمود نے پانچ انٹرچینج سیاسی دبائو اور ہائوسنگ اسکیموں کے مالکان کے فائدے کے لیے بنائے‘ ٹھلیاں کا انٹرچینج کیپیٹل اسمارٹ سٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے مورت میں شفٹ کردیا گیا۔

ایک انٹرچینج ائیرپورٹ سے ساڑھے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ایم ٹو سے جنگل میں نکال دیا گیا‘ کیپٹن محمود سے پوچھا گیا آپ نے یہ کیوں کیا تو اس کا جواب تھا یہ جگہ بیس سال بعد آباد ہو جائے گی‘یہ’’ فیوچر پلاننگ ‘‘ ہے‘ کیپٹن محمود کے بھائی کرنل مسعود مکہ سٹی ہائوسنگ اسکیم کے کنسلٹنٹ ہیں‘ یہ اسکیم بلوچستان کے شہر لورا لائی کے ایک شہری فرید نے بنائی‘ وہ لورا لائی سے آیا اور اس نے 80 کروڑ روپے کی زمین خرید لی اور کرنل مسعود کو اپنا کنسلٹنٹ بنا لیا‘ ہم نے فرید سے پوچھا تمہارے پاس 80 کروڑ روپے کہاں سے آئے؟

اس نے جواب دیا میں نے لورا لائی میں اپنا پلاٹ بیچا تھا‘ اس سے کہا گیا‘ لورا لائی کیا پورے بلوچستان میں اتنی مہنگی زمین نہیں‘ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ اس کے پاس لورا لائی کے پلاٹ کی خریدوفروخت کے کاغذات تھے اور نہ ہی کرنل مسعود کے ساتھ کنسلٹنسی کا کوئی کانٹریکٹ اور تنخواہ کا کوئی معاہدہ لہٰذا فرید بادی النظر میں کرنل مسعود اور کیپٹن محمود کا فرنٹ مین ہے۔

وسیم تابش کے ذمے رنگ روڈ کی لینڈ ریکوزیشن تھی‘ اس نے اجازت کے بغیر اڑھائی ارب روپے کی زمین خرید لی اور پھر 21 مارچ 2021 کو اپنی بہو کے نام ٹاپ سٹی میں بارہ پلاٹس خرید لیے‘ بہو ہائوس وائف ہے اور اس کا کوئی سورس آف انکم نہیں‘ وسیم تابش نے یہ دعویٰ بھی کیا میںنے 40 لاکھ فی پلاٹ خریدا تھا‘ ہم نے ٹاپ سٹی سے تصدیق کرائی‘ پتا چلا ایک پلاٹ کی کم سے کم مالیت پونے دو کروڑ روپے ہے‘ یہ 20 کروڑ بنتے ہیں‘ وسیم تابش کی ان کے علاوہ بھی بے شمار پراپرٹیز ہیں۔

وزیراعظم نے پوچھا ’’آپ نے کتنے ایریا کی تحقیقات کیں‘‘ اینٹی کرپشن نے بتایا ’’ہم نے رنگ روڈ سے تین تین کلومیٹر کے فاصلے پر موجود زمینوں کا ریکارڈ چیک کیا‘‘ ذلفی بخاری کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا گیا‘ سجاد حسین شاہ نام کے ایک شخص نے 2020 میں رنگ روڈ کے ساتھ چار ہزار کنال زمین خریدی‘ ا لآصف ڈویلپرز کے نام سے اسکیم بنائی اور سرکاری منظوری اور کاغذات کے بغیر پلاٹس بیچنا شروع کر دیے۔

ہم نے اسے بلا کر ’’سورس آف انکم‘‘ پوچھا‘ اس نے جواب دیا‘ میں یو اے ای میں سونے کا کاروبار کرتا ہوں‘ میں دوبئی سے 16 ملین ڈالر (دو ارب 55 کروڑروپے) پاکستان لے کر آیا اور اس رقم سے یہ زمین خریدی‘ اینٹی کرپشن نے اپنا ایک افسر دوبئی بھجوایا‘ پتا چلا سجاد حسین شاہ کی کمپنی ایک کمرے کے فلیٹ پر مشتمل ہے اور اس کو بھی تالا لگا ہوا ہے‘ اس کی شخصیت بھی کسی طرح امیر یا کاروباری نہیں لگتی‘ یہ ذلفی بخاری سے مسلسل رابطے میں رہتا تھا لیکن کیا یہ ان کا فرنٹ مین ہے ہم تحقیقات نہیں کر سکے‘ پوچھا گیا  ’’آپ نے تحقیقات کیوں نہیں کیں؟‘‘۔

بتایا گیا’’ اینٹی کرپشن کے پاس اکائونٹس چیک کرنے اور سیاست دانوں کے خلاف تحقیقات کا اختیار نہیں‘ یہ صرف نیب کر سکتا ہے‘‘ بتایا گیا’’ رنگ روڈ پر ایک اور شخص نے 2020میں تین ہزار کنال زمین خریدی‘ ہم نے اس کا انٹرویو کیا تو ہمیں محسوس ہوا اس کا تعلق گجرات کی چوہدری فیملی کی ایک طاقتور شخصیت کے ساتھ ہے تاہم یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کیا یہ بھی فرنٹ مین ہے؟‘‘۔

استفسار پر جواب دیا گیا ’’ہمارے پاس تحقیقات کا مینڈیٹ نہیں‘ یہ تفتیش بھی نیب یا ایف آئی اے کر سکتی ہے‘‘ نوا سٹی کے بارے میں بتایا گیا‘ جنیدچوہدری نے ایک ہزار 50 کنال جگہ خرید کر نوا سٹی کی ابتدائی منظوری لی‘ یہ اس لیول پر پلاٹ نہیں بیچ سکتا تھا لیکن اس نے فائلیں فلوٹ کر دیں‘ ہم نے اس کو بلا کر پوچھا تو اس نے دعویٰ کیا ہم نے آٹھ ہزار فائلیں بیچی ہیں جب کہ مارکیٹ میں 20 سے 30 ہزار فائلیں ہیں‘ ہم نے تحقیق کی تو پتا چلا اس نے پانچ لاکھ روپے کنال زمین خریدی اور یہ ایک کروڑ روپے کنال کے حساب سے فروخت کر رہا تھا‘ پوچھا گیا نوا سٹی کے ساتھ غلام سرور خان اور ان کے بیٹے منصور حیات کاکوئی تعلق تھا؟

بتایا گیا منصور حیات (ایم این اے) ماضی میں جنید چوہدری اور ان کے رشتے داروں کا پارٹنر تھا‘ یہ اس پراجیکٹ میں جنید چوہدری کا فرنٹ پارٹنر نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے منصور حیات اور غلام سرور خان کا اس سے رابطہ بھی تھا اور سول ایوی ایشن کے این او سی اور ہائوسنگ اسکیم کی منظوری میں اثرورسوخ بھی استعمال ہوا اور نواسٹی کی فائلوں کا پیسہ بھی غائب ہوا‘ یہ کس کس شخص کے اکائونٹ میں گیا ہمارے پاس اس کی تحقیقات کا مینڈیٹ نہیں تھا‘ یہ تفتیش بھی نیب کر سکتا ہے‘ وزیرداخلہ شیخ رشید کی زمین کے بارے میں پوچھا گیا۔

بتایا گیا ’’ رنگ روڈ کے ساتھ شیخ رشید کی ساڑھے گیارہ سو کنال زمین ہے‘ شیخ صاحب یہ زمین 1985 سے خرید رہے ہیں‘ یہ تازہ نہیں خریدی گئی لیکن تحقیقات کے دوران ایک حیران کن چیز سامنے آئی‘ رنگ روڈ پر ’’دی لائف ریذیڈینشیا‘‘ نام سے ایک ہائوسنگ اسکیم ہے‘ تحسین اعوان نے اس ہائوسنگ اسکیم کے لیے شیخ رشید سے 139 کنال جگہ خریدی‘ یہ سودا لیگل ہے لیکن اس نے لیگل ہونے کے باوجود دو سوال پیدا کر دیے‘ پہلا سوال‘ یہ سودا 45 لاکھ روپے کنال میں ہوا جب کہ سوسائٹی کے دائیں بائیں زمین کا ریٹ پانچ لاکھ روپے حد آٹھ لاکھ روپے کنال ہے وہاں 45 لاکھ روپے ریٹ ہی نہیں‘ دوسرا تحسین اعوان ’’دی لائف ریذیڈینشیا‘‘ کا ڈائریکٹر ہے اور نہ ہی پارٹنر لہٰذااس نے سوسائٹی کے لیے زمین کیوں خریدی؟

اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا‘‘ پوچھا گیا ’’اور یہ تحسین اعوان کون ہے؟‘‘ اینٹی کرپشن کی طرف سے بتایا گیا ’’تحسین اعوان پاکستان میں لانچ ہونے والی نئی ائیر لائین الویر ائیرویز (Alvir Airway) کا سی ای او ہے‘‘پوچھاگیا ’’اور اسے ائیر لائین کا لائسنس کب جاری ہوا‘‘ بتایا گیا’’الویر کو جولائی 2021 میں ٹورازم لائسنس جاری ہوا ہے‘‘ وزیراعظم رکے اور زور دے کر پوچھا ’’آپ دوبارہ بتایے گا‘‘دوبارہ بتایا گیا اور وزیراعظم نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگا لی‘ پوچھا گیا ’’آپ نے مزید تحقیقات کیوں نہیں کیں؟‘‘ بتایا گیا ’’یہ تحقیقات ہمارے مینڈیٹ سے باہر ہیں‘ یہ بھی نیب کر سکتا ہے‘‘۔

وزیراعظم کو بتایا گیا‘ اینٹی کرپشن نے 22 مئی 2021 کو انکوائری شروع کی تھی‘ 6 ارکان کی جے آئی ٹی بنائی گئی‘ کمیٹی نے 21 ہزار صفحات کا مطالعہ کیا‘ 100 حکومتی اور پرائیویٹ شہریوں سے انکوائری کی‘ پنجاب حکومت کے پانچ ڈیپارٹمنٹس سے پریذنٹیشن لی اور وفاقی اور صوبائی دفتروں سے ڈیٹا جمع کیاجس کے بعد اینٹی کرپشن اس نتیجے پر پہنچی۔

وزیراعظم کو کمشنر راولپنڈی نے غلط بتایا تھا ’’ہم نے رنگ روڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘وزیراعلیٰ کو بھی دھوکا دیا گیا‘ وزیراعلیٰ نے رنگ روڈ کے روٹ میں تبدیلی کے لیے کسی قسم کی منظوری نہیں دی تھی‘ پی اینڈ ڈی کے سابق اور موجودہ چیئرمین نے کنفرم کیا روٹ میں تبدیلی کے لیے کوئی منظوری نہیں ہوئی۔

پراجیکٹ ڈویلپمنٹ اور آر ڈی اے (راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی) روٹ میں تبدیلی کے براہ راست ذمے دار ہیں‘ نیس پاک کی طرف سے معاہدے کی منظوری بھی غیر قانونی تھی‘ پانچ نئے انٹرچینجز نکرالی‘ چک بیلی‘ اڈیالہ‘ ائیرپورٹ اور چکری انٹرچینج صرف اور صرف ہائوسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جا رہے تھے‘ ہائوسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے سی ڈی اے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے این او سی لینے سے قبل رنگ روڈ کے نقشے جاری کر دیے گئے۔

اصل پی سی ون 51 کلومیٹر پر محیط تھا اور اس کا بجٹ 6 ارب 24 کروڑ روپے تھا لیکن دوسرے پی سی ون میں سنگ جانی کو شامل کر کے رنگ روڈ کو 63 کلو میٹر سے زائد کر دیا گیا اور مالیت 16 ارب تین کروڑ روپے کر دی گئی یوں 10 ارب روپے کاسٹ بڑھ گئی اور زمین کی خریداری بھی سرکاری اجازت کے بغیر ہوئی اور سرکاری خزانے سے دو ارب 20 کروڑ روپے ادا کر دیے گئے‘ اینٹی کرپشن نے آخر میں وزیراعظم کو مشورہ دیا ‘آپ معاملے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں۔

سرکاری ملازمین کے خلاف اینٹی کرپشن پنجاب کو مقدمات چلانے دیں جب کہ ا لآصف ڈویلپر کے مالک سجاد حسین شاہ‘ مکہ سٹی کے کنسلٹنٹ اور کمشنر کیپٹن محمود کے بھائی کرنل مسعود‘ الویر ائیرویز کے سی ای او تحسین اعوان‘ نواسٹی کے مالک جنیدچوہدری ‘ نواسٹی کی فائلیں بیچنے والے تمام پراپرٹی ایجنٹس اور اسمارٹ سٹی کے مالکان کا کیس نیب کے حوالے کر دیا جائے اور ان ہائوسنگ سوسائٹیز پر پابندی لگا کر اور مالکان کی جائیدادیں بیچ کر عوام کو ان کا پیسہ واپس کرایا جائے‘ اینٹی کرپشن نے آخر میں آف شور کمپنیوں کا ڈیٹا اور خفیہ اکائونٹس کی لیڈز وزیراعظم کے حوالے کر دیں۔

اجلاس ختم ہو گیا لیکن وزیراعظم دیر تک لمبی لمبی سانسیں لیتے رہے۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے