بد انتظامی، ایندھن کی قلت بجلی کی بندش کی وجہ قرار

اسلام آباد: سپلائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ایندھن کی قلت بجلی کی فراہمی میں سنگین رکاوٹوں کا باعث بن گئی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے اعتراف کیا کہ پاور کمپنیوں کو ناگزیر حالات کی وجہ سے مجبور کیا گیا ہے کہ وہ پیک آوورز (جن اوقات میں بجلی زیادہ استعمال ہوتی ہے) میں ایک ہزار میگاواٹ سے 2 ہزار میگاواٹ کے درمیان جبری طور پر بجلی میں کٹوتی کریں۔

اس میں 2500 سے 4 ہزار میگاواٹ کی ریونیو پر مبنی لوڈشیڈنگ شامل نہیں ہے جس کا انحصار متعلقہ حکام کے تکنیکی طور پر قلت کو دور کرنے کی قابلیت پر ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ ’ہمیں مطالبے کے مطابق ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی فراہمی نہیں مل رہی ہے اور فرنس آئل کی سپلائی دستیاب بجلی گھروں کو چلانے کے لیے کافی نہیں ہے’۔

انتظامات کچھ یوں ہیں کہ جولائی کے دوسرے اور تیسرے ہفتوں میں ایل این جی کے دو جہازوں کی فراہمی کے لیے ٹینڈرز کو 11.77 اور 11.66 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (ملین برطانوی تھرمل یونٹ) کے نرخ پر منسوخ کردیا گیا تھا اور ان میں سے ایک کو چار دن کے بعد اسی کمپنی کو 12.78 فی ایم ایم بی ٹی یو پر طلب کیا گیا اور ایک کو مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا۔

اس کے علاوہ عہدیدار نے بتایا کہ منگلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار میں کمی آچکی ہے اور تربیلا ڈیم سے متوقع تخمینہ نہیں مل رہا ہے۔

گویا کہ یہی کافی نہیں ہے ایک 1300 میگاواٹ کا بڑا چین-حب پاور پلانٹ آسمانی بجلی گرنے سے نظام سے علیحدہ ہوگیا۔

تکنیکی وجوہات کی بنا پر تقریبا ایک ہزار 800 سے 2 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت جبری طور پر بندش کا شکار ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ چین-حب پاور پلانٹ حادثاتی طور پر نظام سے نکلنے کے باوجود اتوار کے روز، گزشتہ روز کے مقابلے میں لوڈ شیڈنگ میں کمی آئی۔

اس کی تصدیق وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی ایک ٹوئٹ میں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چین-حب پاور پلانٹ پر آسمانی بجلی گرنے اور منگلا ڈیم سے کم اخراج کے باعث کچھ مقامی گیس (تقریباً 3.75 فیصد) طلب کو پورا کرنے کے لیے بجلی کے شعبے کی طرف موڑ دیا گیا ہے، یہ چند روز پر مشتمل عارضی انتظام ہے‘.

گزشتہ دو روز کے دوران سسٹم میں بجلی کی فراہمی کی مجموعی قلت 6 ہزار میگا واٹ اور 4 ہزار میگاواٹ کے درمیان ہے کیونکہ ملک بھر میں نمی میں تقریباً اضافہ ہوا ہے۔

بدلی ہوئی پالیسی میں حکومت نے زیادہ نقصان والے علاقوں کو بجلی کی طلب کے تقاضوں سے مستثنیٰ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ نقصان والے صارفین کو ترجیح نہیں دیتے اور طلب کے اندازوں میں ان کا شمار نہیں کیا جاتا ہے۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے