ٹوکیو اولمپکس کورونا پھیلائےگا یا اسپورٹس کی اسپرٹ ؟

ٹوکیو اولمپکس کےآغاز کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، 23 جولائی سے 8اگست تک جاری رہنےوالے ان گیمز میں شرکت کے لیے پاکستانی دستہ بھی ٹوکیو پہنچ گیاہے، تاہم جاپانی دارالحکومت میں بعض اولمپک اسکواڈ کے کورونا میں مبتلا ہونے کے سبب یہ سوال ابھر رہاہے کہ آیا جاپان حکومت اولمپکس سے جڑے اقتصادی مفادکی خاطرکہیں وباکی شدت نظر انداز تو نہیں کررہی ؟

جاپان کے چوتھے بڑے اخبار آساہی شمبن نے حیران کن سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق ملک کی 80 فیصد آبادی اولمپکس گیمزکو منسوخ یا کم سے کم مزید ملتوی کرناچاہتی ہے مگر وزیراعظم یوشی ہیدےسوگا ایسے سروے خاطر میں لانےکو تیار نہیں۔

جاپانی وزیراعظم کویقین ہے کہ نہ تو وہ عوام اور نہ ہی ان ایتھیلٹس کی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں جو دنیابھر سے ٹوکیو میں جمع ہورہے ہیں، ساتھ ہی کچھ اعداد وشمار بھی جاپانی وزیراعظم کا ساتھ دے رہے ہیں۔

جاپان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو کورونا سے سب سے پہلے متاثر ہوا، پچھلے برس وسط جنوری ہی میں کوویڈ19 کا پہلا کیس جاپان میں سامنے آچکا تھا، برطانوی جہاز ڈائمنڈ پرنسز یوکوہاما میں لنگر انداز ہوا اورایک کےبعد دوسرا کیس رپورٹ ہوا توصورتحال گھمبیرہوتی نظرآرہی تھی ،تاہم اِس وقت ساڑھے 8 لاکھ کورونا کیسز کے سبب دنیا میں جاپان کا 34 واں نمبرہے،تقریباً 3 ہزار کیسزروزانہ سامنے آرہے ہیں تاہم وبا سے اموات کی تعداد 15 ہزار ہے۔

موروثی عوامل پر نظرڈالنے والے ماہرین جینیات ہی بتاسکیں گے کہ آخر دنیا کے بعض ممالک میں کورونا سے اموات کی شرح نسبتاًزیادہ یا کم کیوں رہی تاہم جاپان کی حد تک ایک بات واضح طورپر کہی جاسکتی ہے کہ جاپانی ثقافت اوراقدار نے وبا کوپھیلنے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

جاپان میں ایک دوسرے سے ملنے کے موقع پر مصافحہ، بغل گیر ہونے ، بوسہ لینے یا ناک سے ناک کو چھونے کی روایت نہیں، لوگ دو قدم دور رہ کر ہی احتراماً جھکتے ہیں اور اسی کو گرم جوشی کا مظاہرہ تصورکیاجاتا ہے، یعنی سماجی فاصلہ خودبخودقائم رہتا ہے۔

یہی نہیں جاپان کے اکثر حلقوں میں صدیوں سے چہرے پر ماسک پہننےکی روایت بھی چلی آرہی ہے ، قدیم ترین پینٹنگز سے بھی واضح ہےکہ جاپانی مریض اپنا منہ ڈھانپ کر رکھتے تھے، جدید جاپان میں خواتین کا ماسک پہننا اب فیشن بن چکا ہے، اس طرح یہ ماسک نہ صرف کورونا کے خلاف فطری رکاوٹ بنا بلکہ اس بار زکام سے ہلاک افراد کی تعداد میں بھی غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

اعداد وشمار سے واضح ہے کہ موسمی زکام سے سن 2017 میں دوہزار پانچ سو انہتر جاپانی شہری ہلاک ہوئے تھے، 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر تین ہزار تین سو پچیس اور 2019 میں مزید بڑھ کر تین ہزار پانچ سو پچھتر ہوگئی، تاہم 2020 میں زکام سےہلاک افراد کی تعداداس قدر کم رہی کہ پورے عشرے میں کسی بھی برس اس قدرکم نہیں تھی۔

ایک اور دلچسپ حقیقت بھی سامنےآئی کہ  کورونا سے یوں تو دنیا بھر میں معمر افراد زیادہ ہلاک ہوئے ہیں تاہم جاپان پر اس بات کا مکمل اطلاق نہیں ہوتا۔

عمررسیدہ افراد کی جاپان میں کورونا سے اموات کا موازانہ برطانیہ اور اٹلی میں ہلاکتوں سے کرلیتے ہیں کیونکہ ان دونوں مغربی ممالک میں بھی معمر افراد کی قابل زکر تعداد موجود ہے،  یہ دونوں ویسے بھی کورونا سے بدترین متاثر پہلے دس ممالک میں شامل ہیں۔

برطانیہ کی 66 ملین آبادی کا18 فیصد ایسے افراد پرمشتمل ہے جن کی عمریں 65 برس سے زائد ہیں،  اس ملک میں 65 سے 74 برس کے افراد میں کورونا سے گیارہ ہزار اموات ہوئیں۔

اٹلی کی 60 ملین آبادی میں سے 23 فیصد 65 برس سے زائد عمر کے افراد پرمشتمل ہے، یہاں ستر سے نواسی برس کے دس ہزار سے زائد افراد کورونا سے چل بسے۔

اس کے برعکس جاپان کی 126 ملین آبادی میں 65 برس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 28 فیصدہے، یہاں اگران تمام افراد کو شامل کرلیا جائے جن کی عمریں 65 برس سے لے کر سوبرس سے بھی زائد ہوں تو کورونا سے اموات کی تعداد محض 10 ہزار 600 ہے۔

جاپان میں نسبتاً کم اموات کی ممکنہ دیگر وجوہات میں متوازن اورصحت بخش غذا کا استعمال، صفائی پسندی اور ہرممکنہ طورپر سماجی فاصلہ برقراررکھنے کی روایت بھی ہے، شاید اسی لیے جاپانی عوام نے کورونا کے نئے نارمل طرز زندگی میں خود کو آسانی سے ڈھال لیا۔

شادی ہی کو لیجیے،کورونا وبا کےدور میں شادیوں کی شرح میں 12 اعشاریہ 7 فیصد کمی ہوئی ، بچوں کی پیدائش تاریخی طورپر کم ہوگئی،  2019 کے مقابلے میں شرح پیدائش ایک اعشاریہ تین فیصد کم رہی۔

کورونا وبا لاک ڈاؤن اور اقتصادی مسائل بھی لائی مگر یہ الجھنیں جاپان میں گھریلوجھگڑوں اور طلاقوں کی شرح میں اضافے کا باعث نہیں بنیں، سن دوہزار بیس میں طلاقوں کی شرح جاپان میں غیرمعمولی طوپرگری جبکہ برطانیہ،سوئیڈن،اٹلی اور برازیل سمیت کئی دیگر ممالک میں یہ شرح تیزی سےبڑھی۔

ان باتوں سے کیا یہ تصورکرلیا جائے کہ جاپان میں سب اچھا ہے اور ٹوکیو کو بھی اولمپک گیمز کا انعقاد اسی دھوم دھام اور سماجی فاصلے کے خاتمے سے کرنا چاہیے جیسا کہ انگلینڈ نے یوروکپ کےموقع پر کیا؟ صورتحال یقیناً  ایسے اقدامات سے گریز کی متقاضی ہے۔

ٹوکیو کوچاہیے کہ وہ سماجی فاصلہ ہرصورت برقراررکھےاور خلاف ورزی کرنیوالوں کو سخت سزا یقینی بنائے کیونکہ یوروکپ میں لوگوں کو کھلی چھوٹ دینے کا خمیازہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پورا یورپ بھگت رہا ہے، یورپ بھر میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہواہے اورنوبت یہ آئی ہےکہ بعض ایسے افراد میں بھی کورونا کی تصدیق ہورہی ہے جو ایسٹرازینیکا کی دونوں خوارکیں لےچکے ہیں۔

کچھ اور بھی پہلو ہیں جن پر جاپان کو توجہ دینی چاہیے ، اولین اقدام ملک میں ویکسینیشن کا عمل تیزی سے آگے بڑھانا ہے کیونکہ جاپان میں اس وقت صرف 32 فیصد افراد نے ویکسینیشن کرائی ہے۔

کراچی میں جاپان کے قونصل جنرل توشی کازو ایسومورا تسلیم کرتے ہیں کہ بعض جاپانی شہری ویکسین لگوانے میں قباحت محسوس کررہےہیں، مگر سفارتکارکو یقین ہےکہ 65 برس سےزائدعمر کے تمام افراد کی ویکسینیشن کا عمل اس ماہ مکمل کر لیا جائے گا جب کہ ملک کی 70 فیصدآبادی کو اکتوبر تک ویکسین لگادی جائےگی۔

توشی کازو ایسومورا کا تعلق ٹوکیو سےہے، بچپن میں انہوں نے والدین سے وہ دلچسپ کہانیاں سنی تھیں جو 1940 کے ٹوکیو اولمپکس کے انعقاد کی بھرپورتیاریوں سے متعلق تھیں، بدقسمتی سے جنگ عظیم ان گیمز کی راہ میں حائل ہوگئی تھی۔

1964 میں ایسومورا کا لڑکپن تھا ، وہ خود جوڈو میں بلیک بیلٹ تھے اور چونکہ اولمپکس میراتھون ان کے گھر کےقریب سے گزرتی تھی ، اس لیے وہ ایتھیلیٹس کو اپنے قریب سے دیکھنے کےلیے کچھ زیادہ ہی پرجوش تھے مگر قسمت کی دیوی مہربان نہ ہوئی۔

اولمپکس کا تیسرا موقع آیا ہے تو ایسومورا کراچی میں ہیں، اولمپکس سے جڑنے کا طریقہ انہوں نے یہ نکالا ہے کہ گیمز میں شرکت کرنیوالے پاکستانی دستے کوہرممکن سہولت دی ، ان کے ایتھیلٹ نائب کاتسونوری اشیدا نے بھی کھلاڑیوں کو ٹِپس دیں، اس یقین کے ساتھ کہ  یہ اولمپکس امن اورآشتی کا پیغام بنیں گے اورکورونا وبا سے تنگ دنیا میں لوگ  کھیلوں کی صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب ہوں گے ۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے