پاکستان میں جس کو غدار کا لقب دیا گیا وہ اتنا ہی بڑا محب وطن ہے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس کو غدار کا لقب دیا گیا وہ اتنا ہی بڑا محب وطن ہے۔

آزاد کشمیر کے علاقے حویلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو تم نے غدار کہا جس نے 6 ایٹمی دھماکے کیے، اسے تم نے غدار کہا، پاکستان میں جو جتنا بڑا محب وطن ہوتا ہے اسے غداری کا اتنا بڑا لقب دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غداری کے لقب بانٹنے کے لیے، چوروں، ڈاکوؤں کا لقب بانٹنے کے لیے ہم نے بہت ساری فیکٹریز کھول رکھی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ جس کا سیاسی مقابلہ نہیں کرسکتے، جس کا عوامی مقابلہ نہیں کرسکتے، جس کو عوام کے میدان میں شکست نہیں دے سکتے، اس کے لیے یہ پٹاریاں کھل جاتی ہیں، کہیں سے غدار کا، چور کا اور ڈاکو کا لقب نکلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے کشمیریوں بھائیوں یہ یاد رکھنا پاکستان میں جس جس کو غدار کا لقب دیا گیا وہ اتنا ہی بڑا محب وطن ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میں ایسی جگہ پر کھڑی ہوں جس کے 3 اطراف میں ایل او سی (لائن آف کنٹرول) ہے تو میں سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر، جو ایل او سی کے اُس پار ہے، میں مقبوضہ کشمیر کے شہید بیٹوں، ان کی ماؤں، والدین کو سلام پیش کرتی ہوں اور یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک لاکھ شہدا، جنہوں نے اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے اپنا خون بہایا ہے، مریم نواز یہاں کھڑے ہوکر وعدہ کرتی ہے کہ نواز شریف اور آزاد کشمیر میں کھڑے لوگ آپ کا مقدمہ لڑیں گے، نہ صرف یہ مقدمہ لڑیں گے بلکہ سلیکٹڈ کی طرح کشمیر کو مودی کے حوالے نہیں کریں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کشمیر کا مقدمہ لڑے گا بھی اور جیتے گا بھی، نواز شریف جب کشمیریوں کے وکیل تھے تو برہان وانی شہید کا مقدمہ ایک شیر کی طرح امریکا میں سلامتی کونسل میں لڑا تھا، نواز شریف جیسا شیر تھا تو دشمن کے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی دھماکے کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے منہ لٹکا کر کشمیریوں کو یہ نہیں کہا کہ اگر بھارت کشمیر اچک کر لے گیا تو میں کیا کرسکتا ہوں، نواز شریف نے سر پھینک کر یہ نہیں کہا کہ 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے، مقبوضہ کشمیر کا یہ مقدمہ صرف آزاد کشمیر کے شیر اور شیرنیاں ہی لڑسکتے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں سرحدوں پر کھڑے پاکستانی فوج کے ان محافظ بیٹوں کو بھی سلام پیش کرنا چاہتی ہوں، جو کسی بھی سیاست سے بالاتر ہوکر اپنے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے سرحدوں پر جانیں ہتھیلی پر لیے اپنے وطن کی حفاظت کررہے ہیں، میں تمام پاکستانیوں کی جانب سے ان فوجیوں کو دونوں ہاتھوں سے سلام پیش کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج 13 دن ہوگئے میں کشمیر میں ہوں گھر واپس نہیں گئی، میں نے گھر کیوں جانا تھا، میں تو اپنے گھر میں کھڑی ہوں اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے کسی پیسوں والی مشین کے پاس جلسہ نہیں کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ کل میں باغ میں گئی، اسی باغ میں مجھ سے ایک دن پہلے اپنی نئی نویلی اے ٹی ایم کے پاس آکر عمران خان نے جلسہ کیا تھا، سرکاری اخراجات کے باوجود اس جلسے میں باغ کے لوگوں نے جانے سے انکار کردیا اور جب میں باغ گئی تو یقین جانیں باغ والوں نے میرا ایسا استقبال کیا کہ میں ساری زندگی نہیں بھول سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سننے میں آیا ہے کہ باغ میں جس امیدوار کو اسلام آباد سے اسمگل کرکے آزاد کشمیر لائے ہیں، تنویر الیاس صاحب، ان پر الزام لگا ہے کہ انہوں نے ایک افسر کو ایک ارب روپے کی رشوت دی۔

مریم نواز نے کہا کہ کشمیریوں! مجھے ایک بات بتائیں جو آپ کے ووٹ کو ایک ارب روپے میں خریدنے کی کوشش کرے، کیا وہ گیدڑ آپ کا لیڈر ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2016 میں نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو انہی سردار تنویر الیاس نے مسلم لیگ(ن) سے سینیٹ کا ٹکٹ مانگا تھا اور یہ مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے۔

مریم نواز کے مطابق سردار تنویر الیاس نے نواز شریف کو پیغام دیا تھا کہ میں 50 کروڑ روپے پارٹی فنڈ میں دیتا ہوں مجھے ٹکٹ دیں لیکن نواز شریف نے واپس پیغام دیا کہ نواز شریف ٹکٹ دیتا ہے اپنی جماعت کو بیچتا نہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے مزید کہا کہ کشمیر کے عوام آج یہ پوچھ رہے ہیں کہ رشوت پکڑنے والے کو، رشوت لینے والے کو تو آپ نے پکڑ کر نوکری سے برخاست کردیا لیکن جس نے رشوت دی ہے، جو رشوت دے کر خریدنے والا ہے وہ عمران خان کے ساتھ اسٹیج پر کیوں بیٹھا ہے۔

انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلے ورلڈ کپ جیت کر بھارت کو اتنا حوصلہ دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کردے اور جب تمہارے وزیر نے آزاد کشمیر کا جھنڈا پکڑایا تو اس جھنڈے کو ہاتھ لگانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آج تم آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بناکر آزاد کشمیر سے اس کا جھنڈا بھی چھیننے آئے ہو، فارورڈ کہوٹہ والوں حویلی والوں میں آپ کو خبردار کرنے آئی ہوں کہ یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ آپ کے الیکشن پر ڈاکا ڈال کر اپنا کٹھ پتلی وزیراعظم یہاں لاکر آپ سے آپ کی آزادی، آپ کی پہچان، آپ کا جھنڈا، آپ کا تشخص، آپ سے آپ کی سرزمین چھینی جائے اور آپ کو پاکستان کا صوبہ بنادیا جائے لیکن جعلی لیڈر، جعلی ووٹ، جعلی تختیاں، جعلی مینڈیٹ، جعلی منصوبے، جعلی دعوے کرنے والے یاد رکھو کہ آزاد کشمیر میں تمہارا کوئی جعلی دعویٰ نہیں چلے گا۔

مریم نواز نے کہا کہ میں عمران خان سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ سردار تنویر الیاس جسے پاکستان تحریک انصاف میں کوئی جانتا ہی نہیں تھا، جو چند سال پہلے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ مانگ رہا تھا، اس کے ہاتھوں تم کتنے میں بکے ہو، میں پوچھتی ہوں اس نئی نویلی اے ٹی ایم سے کشمیریوں کا ووٹ کتنے روپے میں خریدا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس نے سرکاری محکمے کے افسر کو ایک ارب روپے رشوت کی پیشکش کی ہو اس نے ٹکٹ لینے کے لیے عمران خان کو کیا دیا ہوگا، یہ بھی میں بتادوں یہ مریم نواز شریف، عمران خان نہیں کہہ رہا، یہ اخبارات کی رپورٹس کہہ رہی ہیں۔

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کا مقدمہ عمران خان نے کیا لڑنا ہے، نواز شریف کو مودی کو یار کہنے والے نے خود کشمیر مودی کی جھولی میں ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی یہ ہے کہ چین نے سی پیک پر کام بند کردیا ہے، داسو ڈیم پر چینیوں پر حملہ ہوتا ہے اور 10 چینی مارے جاتے ہیں، چین جو نواز شریف کے دور میں سرمایہ کاری کررہا تھا آج اپنے لوگوں کی ہلاکت کی تحقیقات کررہا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی یہ ہے کہ دن دیہاڑے افغانستان کے سفیر کی بیٹی اغوا ہوجاتی ہے اور بجائے اس کے کہ معافی مانگی جاتی وزارت داخلہ کے بیانات آرہے ہیں کہ وہ اس لیے اغوا ہوئی ہے وہ وہاں اکیلی تھی، ٹیکسی میں بیٹھی تھی، انہیں شرم آنی چاہیے، اس کی حفاظت ان کی ذمہ داری تھی۔

انہوں نے کہا کہ جس دن شہید برہان وانی کی برسی تھی اس دن وزارت خارجہ میں ناچ گانا ہورہا تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ ’میرا دل نہیں ہے کہ نواز شریف اور عمران خان کا نام ایک جملے میں لیا جائے، عمران خان کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ اس کا نام نواز شریف کے ساتھ لیا جائے‘۔

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے